Home / آرٹیکلز / حضرت عبداللہ مبارک ؒ کا نفس اپنے قابو میں نہیں رہتا تھا کسی نے بتا یا کہ بہلو ل ؒ دانا کی نصیحت لو۔۔ چنانچہ آپؒ صحرا کی طرف روانہ ہو ئے ۔۔۔

حضرت عبداللہ مبارک ؒ کا نفس اپنے قابو میں نہیں رہتا تھا کسی نے بتا یا کہ بہلو ل ؒ دانا کی نصیحت لو۔۔ چنانچہ آپؒ صحرا کی طرف روانہ ہو ئے ۔۔۔

حضرت عبداللہ مبارک کے دل میں حضرت بہلول دانا سے ملا قات کا شوق ہوا کسی نےبتا یا کہ وہ صحرا میں ملیں گے حضرت عبداللہ مبارک صحرا کی جا نب روانہ ہوئے ایک جگہ انہوں نے حضرت بہلول دا نا کو دیکھا کہ ننگے سر ننگے پاؤں یا ہو یا ہو پکار ہا ہے۔ وہ قریب گئے سلام کیا حضرت بہلول دانا نے سلام کا جواب دیا حضرت عبداللہ مبارک بو لے یا شیخ مجھے کچھ نصیحت کیجئے مجھے بتائیے

کہ زندگی کو گ ن ا ہ وں سے کس طرح پاک کروں اپنے سر کش نفس سے کس طرح بازی لے جا ؤں اور کیوں کر راہ نجات اختیار کر و ں حضرت بہلول دانا نے سادگی سے کہا بھائی جو خود عا جز اور پریشان ہے اس سے کوئی دوسرا کیا امید رکھ سکتا ہے میں تو دیوانہ ہوں تو جا کر کسی عقل مند کو تلاش کر جو تیری فر ما ئش پوری کر سکے۔ حضرت عبداللہ مبارک نے سینے پر ہاتھ رکھا حضرت بہلول دا نا اسی لیے تو یہ نا چیز آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے کہ سچی بات کہنے کی جرات تو صرف دیوانے ہی رکھتے ہیں حضرت بہلول دانا نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اور خاموش ہو گئے۔

حضرت عبداللہ مبارک منت خوشامد کرنے لگے جب آپ نے بہت مجبور کیا تو حضرت بہلول دا نا بو لے عبداللہ میری چا ر شر طیں ہیں اگر تم قبو ل کر لو تو میں تمہیں راہ نجات دکھا دوں گا حضرت عبداللہ مبارک نے بے صبری سے کہا بسر و چشم چار کیا میں آپ کی چار ہزار شرطیں ماننے کو تیار ہوں کہ راہ نجات کی بھلا کوئی قیمت ہو سکتی ہے حضرت بہلول دانا کہنے لگے تو پھر سن میری پہلی شرط یہ ہے کہ جب توں کوئی گ ن ا ہ کرے یا خدا کے حکم کی نا فر ما نی کر ے اس کا رزق بھی مت کھا اسی کی نمک ح ر امی نہ کرو۔ حضرت عبداللہ مبارک نے اعتراف کیا بے شک آپ سچ فرماتے ہیں دوسری شرط بیان کیجئے حضرت بہلول دانا نے کہا دوسری شرط یہ ہے کہ جب تو کوئی گ ن ا ہ کر نا چاہے تو خدا کی زمین سے نکل جا حضرت عبداللہ مبارک اتنے پریشان اف خدا یا یہ شرط تو با لکل ہی نا قابلِ عمل ہے۔

اب تیسری شرط بھی بیان کیجئے ۔ حضرت بہلول دانا کہنے لگے بھائی تیسری شرط یہ ہے کہ جب تو کوئی گ ن ا ہ کا ارادہ کر ے یا خدا کی نا فرما نی کر نا چاہے تو کسی ایسی جگہ جا کر جہاں خدا تجھے نہ دیکھ سکے نہ ہی تیرے حال سے واقف ہو بہلول لا جواب ہوں اب آپ اپنی چوتھی شرط بیان کر یں حضرت بہلول دانا کہنے لگے چو تھی شرط یہ ہے کہ جس وقت ملک ا ل م و ت اچانک تیرے پاس آ ئے تا کہ خدا کی امر کو پورا کر ے اور تیری روح قبض کر کے لے جا ئے دیکھ غرور سے دور رہ اور آخ ر ت کی فکر کر لمبا سفر تیرے سامنے ہے اور عمر بہت مختصر ہے جو کام اور عمل خیر آج ہو سکتا ہے

وہ آج ہی کر لو کیا خبر تو کل کو نہ دیکھو سکے جو قت ہاتھ میں ہے وہی غنیمت ہے اب مال خیر کی صورت میں جو تجھے راہ نجات دکھا دے تم نے اب سر کیوں جھکا لیا ہے تمہاری زبان پر لا تا کیوں پڑ گیا ہے تم آج میرے سا منے لا جواب ہو گئے ہو تو جب گھر روز حشر تم سے پو چھ گچھ ہو گی تو کیا جواب دو گے یا اس دنیا میں ہی اپنا حساب صاف کرو۔ تا کہ کل کے خ و ف سے پناہ میں رہو۔ لوگ تو آپ کو یوں ہی دیوانہ کہتے ہیں ورنہ کون نہیں جا نتا کہ آل محمد ﷺ کی صحبت اور محبت نے آپ کو یہ گانے روز گار بنا دیا ہے آپ پا گل نہیں آل محمد ﷺ کے دیوانے ہے حضرت بہلول دانا نے اپنی گدری اٹھائی اور یہ کہتے ہوئے چل پڑے بندے کو لازم ہے کہ جو کچھ کر ے خدا کے حکم سے کرے اور جو کچھ کہے سنے خدا کے حکم سے کیونکہ وہ بندگی کا دعویٰ رکھتا ہے اور خود کو خدا کا بندہ کہتا ہے۔

About admin

Check Also

رونا بڑی نعمت ہے

جاپان کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہفتے میں کم از کم ایک بار …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *