Home / آرٹیکلز / منافق لوگوں کی پہچان؟ ایک چیز ایسی ہے جو کسی بھی منافق کی پہچان کروا دیتی ہے ؟

منافق لوگوں کی پہچان؟ ایک چیز ایسی ہے جو کسی بھی منافق کی پہچان کروا دیتی ہے ؟

منافق لوگوں کی ایک قسم وہ بھی ہے جو خودکو حساس ظاہر کر کے پہلے آپ سے ہمدردیاں سمیٹتے ہیں ،پھر آپ کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔کبھی کبھار حق پر ہونے کے باوجود ہمیں خاموش رہنا پڑتا ہے اس لئے نہیں کے ہم ڈرتے ہیں بلکہ اس لئے کہ ہمارے رشتے ہمیں اپنی بحث اورانا سے کہیں زیادہ عزیز ہوتے ہیں ۔زندگی کے ہاتھ نہیں ہوتے لیکن کئی دفعہ ایسا تھپڑ لگاتی ہے کہ پھر ساری عمرا س کا نشان نہیں جاتا۔جتنا سوچو گے اتنی ہی اذیت یا تو مضبوط ہو جاؤ یا مصروف۔میں نے اپنی زندگی کا ہر فیصلہ اپنے رب پر چھوڑ دیا ہے بے شک میرا رب مجھے مایوس نہیں کرتا۔الفت بدل گئی کبھی نیت بدل گئی خود غرض جب ہوئے تو پھر سیرت بدل گئی اپنا قصور دوسروں کے سر پر ڈال کر کچھ لوگ سوچتے ہیں حقیقت بدل گئی۔کبھی کبھی دل کی بات صاف صاف بتا دینی چاہئے کیونکہ بتا دینے سے فیصلے ہوا کرتے ہیں اور نہ بتانے سے فاصلے۔ایک مان ہی تو ہوتا ہے

جو آپ کو ہر کسی پہ نہیں ہوتا کسی بہت خاص پہ ہوتا ہے اگروہ آپ کا مان توڑ دے تو آپ ایسے ٹوٹتے ہو کہ پھر جڑنا مشکل ہوجاتا ہے ۔دعاؤں میں تاثیر آپ کی طلب سے آتی ہے اور تاخیر آپ کی بہتری کے لئے ہوتی ہے ۔زندگی سے اتنا پیار نہ کرو یہ کسی سے وفانہیں کرتی م و ت کو کبھی مت بھولو یہ کسی کو دھوکا نہ دیتی۔حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ سے یہ روایت کیا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام کر دیا، لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، سو تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تمہیں ہدایت دوں گا، اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھانا کھلاؤں، پس تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تمہیں کھلاؤں گا، اے میرے بندو! تم سب بے لباس ہو سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں، لہٰذا تم مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس پہناؤں گا، اے میرے بندو! تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں تمام گناہوں کو بخشتا ہوں، تم مجھ سے بخشش طلب کرو، میں تمہیں بخش دوں گا،

اے میرے بندو! تم کسی نقصان کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور تم کسی نفع کے مالک نہیں کہ مجھے نفع پہنچا سکو، اے میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ متقی شخص کی طرح ہو جائیں تو میری بادشاہت میں کچھ اضافہ نہیں کر سکتے اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اول و آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ بدکار شخص کی طرح ہو جائیں تو میری بادشاہت سے کوئی چیز کم نہیں کر سکتے۔ اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن کسی ایک جگہ کھڑے ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کا سوال پورا کر دوں تو جو کچھ میرے پاس ہے اس سے صرف اتنا کم ہو گا جس طرح سوئی کو سمندر میں ڈال کر (نکالنے سے) اس میں کمی ہوتی ہے، اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لئے جمع کر رہا ہوں، پھر میں تمہیں ان کی پوری پوری جزا دوں گا، پس جو شخص خیر کو پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جسے خیر کے سوا کوئی چیز (مثلاً آفت یا مصیبت) پہنچے وہ اپنے نفس کے سوا اور کسی کو ملامت نہ کرے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

About admin

Check Also

رونا بڑی نعمت ہے

جاپان کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہفتے میں کم از کم ایک بار …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *