بڑی ناکامی سے بڑی کامیابی کیسے جنم لیتی ہے؟

https://www.facebook.com/v2.3/plugins/quote.php?app_id=770767426360150&channel=https%3A%2F%2Fstaticxx.facebook.com%2Fx%2Fconnect%2Fxd_arbiter%2F%3Fversion%3D46%23cb%3Df1d5921b1ee508%26domain%3Dwww.express.pk%26origin%3Dhttps%253A%252F%252Fwww.express.pk%252Ff14688bde9226d%26relation%3Dparent.parent&container_width=1349&href=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2090983%2F509%2F&locale=en_US&sdk=joey

زندگی کے ہر ہر لمحے سے لطف کشید وہی کر سکتا ہے جو زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینے کی ہمت کرتا ہے، جو کولہو کے بیل کی مانند ایک ہی دائرے کے گرد نہیں گھومتا، بلکہ زندگی کی وسعتوں سے آگاہی حاصل کر کے نت نئے تجربات کرتا ہے اور خود کو قلبی و روحانی خوشی سے ہم کنار کرتا ہے۔ ایک ہی طرزِ زندگی اور یکسانیت انسان کو بوجھل اور رنجیدہ کر دیتا ہے۔

روزانہ ایک ہی گھر میں اْسی کمرے میں جاگنا، وہی کپڑے پہننا، اْسی سواری پر اسی ملازمت پر جانا ایک عام روزمرہ معمول ہے لیکن کبھی کبھی اپنے آرام دہ خول سے باہر نکل کر کچھ نیا اور اچھوتا کرنا آپ کو دلی اور روحانی خوشی سے ہم کنار کرتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ ایک ہی معمول کے تحت زندگی گزار دیتے ہیں اور اپنی بے زاری، سستی سے نجات کے لیے جرات مندانہ اقدام کرنے کی ہمت نہیں کر پاتے۔

ملازمت چھوٹ جانا ، گھر سے بے گھر ہونا، خاوند سے علیحدگی ہو جانا، کسی حادثے کا شکار ہونا ان سب میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جسے آپ زندگی اور اس کی امنگوں کا اختتام قرار دے کر مایوس ہو کر بیٹھ جائیں ۔ مشکلات ہمیں مایوس کرنے کو نہیں بلکہ زندگی کے نئے اور اچھوتے پہلوؤں سے روشناس کرانے آتی ہیں۔ مشکل وقت زندگی کا اختتام نہیں ہوتا بلکہ اکثر اوقات نیا آغاز ہوتا ہے۔

بس اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے اور ہر اندھیری رات کے بعد اجالا ہوتا ہے۔ خطرات سے کھیلنا اور زندگی کے دئیے گئے امتحانات کو قبول کرنا نہ تو ہر ایک کے بس کی بات ہوتی ہے اور نہ ہی ہر شخص اس امتحان میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ کامیابی انہی کے لیے ہے جو کامیاب ہونے کی ٹھان لیتے ہیں۔ ہمارے اردگرد دنیا میں مختلف لوگوں کو پیش آنے والی مشکلات نے کیسے ان کی زندگیوں کا رخ بدلا، آئیے! چند مثالوں کے ذریعے جانتے ہیں:

فراز صاحب کو تریپن سال کی عمر میں ایک ریستوران کی بہترین انتظامی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑے ۔ وہ جانتے تھے کہ اس عمر میں کوئی نئی اور اچھی ملازمت حاصل کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ سے اپنا ریستوران بنانے کے خواب دیکھتے تھے، ملازمت سے فارغ ہونے پر انہیں پھر اس دیرینہ خواب نے ستانا شروع کر دیا ۔ دلچسپ امر یہ تھا کہ وہ کسی نمایاں جگہ پر کوئی چلتا ہوا ریستوران لینے کے خواہشمند تھے تا کہ انہیں اس عمر میں صفر سے آغاز نہ کرنا پڑے اور اس سے بھی دلچسپ بات یہ تھی کہ اس سب کے لیے ان کے پاس کوئی سرمایہ نہ تھا۔

خوش قسمتی سے انہیں اپنے گھر سے ذرا سے فاصلے پر ایک ایسا ریستوران مل گیا، جس کا مالک اپنے معاشی بحران کی وجہ سے چلتا کاروبار بیچنے کا خواہش مند تھا۔ ہمیشہ سے اپنے ہوٹل کا خواب دیکھنے کے باوجود انہوں نے اس مقصد کیلئے کوئی سرمایہ محفوظ نہیں کیا تھا (آپ خواب دیکھتے ہیں تو ان کو پورا کرنے کی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ سرمایہ بھی محفوظ کریں، تاکہ زندگی اگر کبھی خواب کی تکمیل کا موقع دے تو سرمایہ کی کمی کی وجہ سے خواب ادھورا نہ رہے) ۔

فراز صاحب کے دوست احباب اور اہل خانہ اس موقع پر ان کے کام آئے اور انھیں سرمایہ فراہم کیا، یوں انھوں نے ریستوران خرید کر اسے ازسرنو ترتیب دینے میں اپنی ساری صلاحیتیں وقف کر دیں۔ انہوں نے نام سے لے کر کھانے کا مینیو، بیٹھنے کی ترتیب اور تزئین و آرائش نئے سرے سے کی، ہوٹل کی ظاہری وضع بدلنے میں ان کی بیوی نے اپنی حسِ آرائش کا بھرپور استعمال کیا۔ ان خوبصورت تبدیلیوں کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد ریستوران کی طرف متوجہ ہوئی ۔ دو سالوں میں انہوں نے نہ صرف سارا قرض چکا دیا بلکہ نفع بھی کمانا شروع ہو گئے۔ آج انہیں اس ریستوران کو کامیابی سے چلاتے اٹھارہ سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے اور وہ بڑی کامیابی اور خوش اسلوبی سے اپنے ذاتی من پسند کاروبار کا لطف لے رہے ہیں ۔ وہ ملازمت چھوٹ جانے کو اس حوالے سے نعمت قرار دیتے ہیں کہ اگر ان کی ملازمت ختم نہ ہوتی تو وہ کبھی اپنا خواب پورا نہیں کر سکتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.