Breaking News
Home / آرٹیکلز / حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کی وصیت

حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کی وصیت

جب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کی وفات ہوئی تو کہرام مچ گیا۔ جنازہ تیار ہوا، ایک بڑے میدان میں لایا گیا۔ بے پناہ لوگ نماز جنازہ پڑھنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ انسانوں کا ایک سمندر تھا جو حد نگاہ تک نظر آتا تھا۔ جب نمازجنازہ پڑھنے کا وقت آیا،ایک آدمی آگے بڑھا اور کہنے لگا کہ میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کا وکیل ہوں۔ حضرت نے ایک وصیت کی تھی۔میں اس مجمعےتک وہ وصیت پہنچانا چاہتا ہوں۔ مجمعے پر سناٹا چھاگیا۔

وکیل نے پکار کر کہا ۔ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ وصیت کی کہ میرا جنازہ وہ شخص پڑھائے جس کے اندر چار خوبیاں ہوں۔زندگی میں اس کی تکبیر اولیٰ کبھی قضا نہ ہوئی ہواس کی تہجد کی نماز کبھی قضا نہ ہوئی ہو۔اس نے غیر محرم پر کبھی بھی بری نظر نہ ڈالی ہو۔اتنا عبادت گزار ہو کہ اس نے عصر کی سنتیں بھی کبھی نہ چھوڑی ہوں۔جس شخص میں یہ چار خوبیاں ہوں وہ میرا جنازہ پڑھائے۔ جب یہ بات سنائی گئی تو مجمعے پر ایسا سناٹا چھایا کہ جیسے مجمعے کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ کافی دیر گزر گئی، کوئی نہ آگے بڑھا۔ آخر کار ایک شخص روتے ہوئے حضرت

خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کے جنازے کے قریب آئے۔ جنازہ سے چادر اٹھائی اور کہا۔ حضرت! آپ خود تو فوت ہوگئے مگر میرا راز فاش کردیا۔اس کے بعد بھرے مجمعے کے سامنے قسم اٹھائی کہ میرے اندر یہ چاروں خوبیاں موجود ہیں۔ یہ شخص وقت کا بادشاہ شمس الدین التمش تھے۔حوالہ :حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کے اقوال

About admin

Check Also

اگر آپ بے روزگار ہیں اور کوئی روگار نہیں ملتا تو سورۃ فاتحہ کا یہ چھوٹا سا عمل کریں اور کمال دیکھیں

اگر آپ مالی طور پر بہت ہی پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں یا آپ …

Leave a Reply

Your email address will not be published.